24

اللہ والوں کے قصّے..

حضرت سید جلال الدینؒ سرخ بخاری جب ملتان آئے تو ایک روز گرمی سے تنگ آکر بخارا کے موسم کو یاد کرنے لگے۔ حضرت بہاﺅالدین زکریاؒ ملتانی کو کشف سے یہ بات معلوم ہوگئی۔ آپ نے اپنے ایک خادم کو مسجد میں بھیجا اور یہ تاکید فرمائی کہ صفیں لپیٹ کر مسجد کے صحن میں جھاڑو دیں۔اتنے میں بادل نمودار ہوا، خوب بارش ہوئی، اولے گرے، مسجد سے باہر نہ بارش ہوئی نہ اولے گرے۔ ظہر کی نماز کے وقت زکریاؒ ملتانی مسجد میں آئے اور حضرت جلال الدینؒ سرخ بخاری سے مسکرا کر فرمایا ”کہیئے سید! اولے ملتان کے بہتر ہیں یا برف بخارا کا۔“آپ نے عرض کیا ”اس صورت میں تو اولے ملتان کے سودرجہ بہتر ہیں۔“آپ نے ان کو اسی روز خرقہ خلافت سے مشرف فرمایا۔

٭٭٭حضرت شاہ دولہؒ کے ہاں اکثر بے اولاد عورتیں حاضری کے لئے آتیَ اللہ نے آپ کی زبان میں ایسی تاثیر عطا کی تھی کہ آپ جو فرمادیتے وہ ہوکر رہتا۔ایک دن ایک ایسی خاتون آئیں جن کا تعلق کسی ریاست سے تھا۔ آپ نے اس خاتون سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا ”اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے مگر اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ آپ دعا فرمائیں گے تو میری مراد برآئے گی۔“

حضرت شاہ دولہ نے فرمایا ”میں دعا تو کرسکتا ہوں مگر اس میں ایک ایسی مشکل بھی ہے جس کو تم کبھی برداشت نہ کرو گی۔“خاتون نے جواب دیا ”میں ہر مشکل سہنے کے لیے تیار ہوں۔“

شاہ دولہؒ نے فرمایا ”میں دعا کروں گا اور تمہیں اولاد نصیب ہوگی مگر تمہیں اپنا پہلا بچہ خانقاہ کی نذر کرنا ہوگا۔“ اس پر خاتون راضی ہوگئی۔جب وہ اپنے محل میں پہنچی تو اس کے دماغ میں عجیب عجیب خیالات آنے لگے۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر ایک ہی بچہ ہوا اور وہ بھی خانقاہ کی نظر کردوں تو میری جھولی خالی کی خالی ہی رہے گی۔ پھر اس نے سوچ اکہ جب اولاد ہوگی تو اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کے کرم سے دس ماہ کے بعد اس عورت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا مگر اس کا سر بہت چھوٹا تھا۔ ماں کو بچے سے بہت پیار تھا۔ اس لیے اس نے ہر ایک کو منع کردیا کہ کوئی بھی باہر جاکر خانقاہ میں اس بچے کی پیدائش کا ذکر نہ کرے۔ایک رات اس عورت نے خواب میں حضرت شاہ دولہؒ کو دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اے عورت! تو اپنا وعدہ پور اکر، بدعہدی بہت بڑا گناہ ہے۔“

عورت نے جواب دیا ”حضرت مجھ پر رحم کیجئے۔ میرا بچہ مجھ سے نہ لیجئے۔“حضرت شاہ دولہؒ نے فرمایا ”یہ لینے دینے کی بات نہیں ہے بلکہ وعدہ پورا کرنے کی بات ہے۔ تجھے شاید یہ بات معلوم نہیں کہ تیرے بچے کا سر بہت چھوٹا کیوں ہے، اس لیے کہ وہ عقل سے معذور ہوگا اور تیرے کسی کام نہیں آئے گا۔“

وہ خاتون صبح بیدار ہوئی تو سخت پریشان تھی۔ اس نے بچے کے سر کو غور سے دیکھا۔ واقعی وہ بہت چھوٹا تھا۔ پھرا س نے ریاست کے شاہی حکیموں کو بلا کر پوچھا کہ یہ لڑکا چھوٹے سر کی وجہ سے کیا بنے گا۔“انہوں نے معائنے کے بعد بتایا کہ یہ عقل سے معذو رہوگا، بالکل جانوروں کی طرح۔ کئی دن کی پریشانی کے بعد وہ روتے روتے حضرت شاہ دولہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی او رپوچھا ”یہ بچہ ابھی آپ کی نذر کروں یا پال پوس کر آپ کے حوالے کروں۔“

آپ نے فرمایا ”جیسی تیری مرضی ہو، وہ کر۔ مگر رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تجھے اور اولاد بھی ہوگی۔“وہ عورت اس بچے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اسے خدا نے تین سال میں تین لڑکے عطا کیے اور پہلا لڑکا ہنسی خوشی خانقاہ کی نذر کرگئی۔

حضرت نصیر الدینؒ چراغ دہلوی کی وفات پر حضرت گیسوورازؒ نے انہیں غسل دیا اور جس پلنگ پر غسل دیا تھا اس کی ڈوریاں پلنگ سے جدا کرکے اپنی گردن میں ڈال لیں کہ یہی میرا لباس ہے۔ مرشد کی وفات کے بعد آپ ان کے جانشین مقرر ہوئے اور چالیس برس تک دہلی میں لوگوں کے سامنے وعظ و تلقین کرتے رہے۔

٭٭٭ایک روز حضرت شیخ صدر الدین عارفؒ دریا کے کنارے تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ رکن الدینؒ ابوالفتح تھے۔ آپ نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اتنے میں ہرن کا ایک غول ادھر سے گزرا۔ اس غول میں ہرنی کا ایک بچہ بھی تھا۔ شیخ رکن الدینؒ ابوالفتح جن کی عمر اس وقت سات سال کی تھی۔ اس بچے کو پکڑنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ بچہ ہاتھ نہ آیا۔

نماز سے فارغ ہوکر آپ نے حضرت شیخ ابو الفتحؒ کو قرآن شریف کا سبق دیا۔ ان کو دس مرتبہ پڑھنے پر بھی یاد نہ ہوا۔ حالانکہ وہ تین مرتبہ پڑھنے پر ہی اپنا سبق یاد کرلیا کرتے تھے۔ آپؒ نے وجہ معلوم کی۔ جب آپ کو ہرن کے غول او ربچے کا اس طرف آتا معلوم ہوا، تو آپ نے پوچھا۔ کہ وہ ہرن کا غول کس طرف گیا۔حضرت شیخ رکن الدینؒ نے سمت بتائی۔ آپ نے اس طرف کچھ پڑھ کر پھونکا، غول واپس ہوا۔ حضرت رکن الدین نے دوڑ کر اس بچے کو پکڑلیا اور بہت خوش ہوئے۔ اس خوشی میں انہوں نے ایک سیپارہ حفظ کرلیا۔ اس کے بعد ہرنی کو مع بچے کے خانقاہ میں لے آئے۔سرخس میں ایک بے نمازی دیوانہ وار پھرا کرتا تھا اور جب اس سے لوگوں نے نماز پڑھنے کے لیے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ وضو کرنے کے لیے پانی کہا ہے؟

یہ سن کر لوگ کنویں پر پکڑ کر لے گئے اور اس کے ہاتھ رسی ڈول تھما کر کہا کہ اس میں سے پانی کھینچ کر وضو کر لے لیکن وہ دیوانہ تیرہ یوم تک رسی پکڑے بیٹھا رہا۔ اتفاق سے ایک روز حضرت ابو الفضل حسن سرخسیؒ کا ادھر سے گزر ہوا۔ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا ”یہ تو غیر مکلف ہونے کی وجہ سے قیود شریعت سے قطعاً آزاد ہے۔ جاﺅ اسے اس کے گھر پہنچادو۔“٭٭٭

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں