70

سماجی اور جذباتی تعلیم بھی ضروری ہے!

کیا آ پ نے کبھی سوچا ہےکہ آپ کے بچے اسکول میں کس قسم کی جذباتی اور سماجی اونچ نیچ کی کیفیت سے گزرتے ہیں؟ کیا وہ آپ سے شکایت کرتے ہیں کہ آج فلاں کلاس فیلو نے ان سے بدتمیزی کی ،یا کسی نے ان کا پنسل بکس چرالیا؟

لیکن اس کے برعکس کیا کبھی آپ کے بچے نے خود اعتراف کیا کہ اس نے کسی ساتھی اسٹوڈنٹ کے بال کھینچے یا اپنے ہم جماعت کی کاپی چھپالی؟ یا ا س نے کسی کے دبے ہوئے رنگ پر جملے کسے؟دراصل ہم اپنے بچوں کی یکطرفہ کہانیاں سنتے ہیں اور ان کے رد عمل کے طور پر ہم اسکول پہنچ جاتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات جب معاملات سامنے آتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ قصور آپ کے بچے کا زیادہ تھا یا پھر پہل اسی نے کی تھی۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بچو ں کو صرف اسکول بھیجنا اور ان کی کامیابی کا جشن منانا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان کی ہر سطح پرصحیح رہنمائی کرنا بھی بہت ضروری ہے، اسی لئے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ تعلیم وتربیت کی ترتیب کو برعکس کردیا جائے تو شاید زیادہ بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں، یعنی پہلے تربیت اور پھر تعلیم کی بات کی جانی چاہئے کیونکہ بچہ زندگی کی ابتدا سے ہی گھر میں تربیت حاصل کرتاہےکہ کیسے چیزیں استعمال کرنی ہیں، کیسے اٹھنا ہے، کیسے بیٹھنا ہے، دوسروں سے کس قسم کا برتائو کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور جذباتی تعلیم کیلئے بھی فکر مند ہوں تو شاید وہ اپنی زندگی میں بہتر فیصلے کرنے میں کامیا ب ہونے کے قابل ہوجائیں۔

اس ضمن میں بچوں کی سماجی اور جذباتی تعلیم کے حوالے سے اسکولوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے یعنی بچوں کی معلومات ، روّیوں اور مہارتوں کو پرکھتے ہوئے ان کے انفرادی جذبات کو مینیج کیا جائے اور انہیں مثبت مقاصد، احساسات ، دوسروں سے ہمددری ، لوگوں سے مثبت تعلقات اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے جیسے عوامل کیلئے تیار کیا جائے۔ طالب علموں کو بدلتے حالات اور وقت کےساتھ ساتھ سماجی ، جذباتی ، معاشی اور نفسیاتی تعلیم دی جائے تاکہ وہ نہ صر ف ہنر مند اور کارآمد شہری بنیں بلکہ ایک اچھا اور دوسروں کا احساس کرنے والا انسان بن کر کامیاب زندگی گزاریں ،ساتھ ہی ایک دوراندیش رہنماکی صورت اپنے معاشرے کی رہنمائی کریں۔

بچوں کی صحیح تربیت کے حوالے سے اسلام ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ ہمارا دین بچوں کی علمی، ذہنی اور جذباتی صلاحیتوں کو اعلیٰ اقدار پر استوار کرتے ہوئے انہیں نیکی کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیتاہے۔ اگر بچپن سے گھروں او ر اسکولوں میں عمدہ اخلاقیات کی ترویج کی جائے ، کسی کی حق تلفی کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور کسی کی دل آزاری سے روکا جائے تو ہم بچوں کی جذباتی اور سماجی تربیت کرتے ہوئے انہیں بہت سے مسائل سے دور رکھ سکتے ہیں، جو اسکول ، کالج یا عام زندگی میں ان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

مشہور فلسفی افلاطون کی نظر میں تعلیم کا اہم فعل بہترین شہریوں کی تعمیر کرناہےاور ماہرین نفسیات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ انسان کی نشوونما اس کے ماحول اور خداداد صلاحیتوں پر انحصار کرتی ہے، اسی لیے اس کی خداداد صلاحیتوں کی نشوونما کے بعد اسےوہ سب کچھ سکھانا چاہئے جو سوسائٹی اسے سکھانا چاہتی ہے۔

دوسری طرف بچوں کی سماجی اورجذباتی صلاحیتوں کو مثبت اندا ز میں بڑھانے کیلئے گھروں اوراسکولوں میں موجودہ تعلیمی ماحول اور سرگرمیوں کو بہتر بنانا ہوگا ۔ اس ضمن میں امریکا میں بچوں کو آپس کی گرما گرمی سے دور رہنے اور باہمی احترام کا احساس پیدا کرنے کیلئے ایک پروگرام ڈیزائن کیا گیاہے۔ کلا س میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے رقابت کے بجائے مثبت انداز میں لینے پر زور دیا جاتاہے۔

جذباتی یا سماجی تعلیم بچوں کو سوسائٹی میں مثبت کردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیںکہ اکثر کسی نہ کسی درس گاہ کے طلباگلیوں کی صفائی ستھرائی یا ساحل سمندرسے کچر ا صاف کرتے نظر آتے ہیں۔ چند ایک کو آپ نے شام کے وقت بچوں کو فٹ پاتھ پر پڑھاتے یااولڈ ایج ہومز میں ضرورت مندوں میں کپڑے وتحائف تقسیم کرتے یا ناگہانی آفات جیسے کہ زلزلہ یا سیلاب سے متاثرہ لوگوں کیلئے اشیائےخوردونوش جمع کرتے اور متاثر علاقوں تک پہنچاتے دیکھا ہوگا۔ ایسے طلبا میں آپ کے بچے بھی شامل ہیں توآپ ان کو سماجی اور جذباتی تربیت و تعلیم فراہم کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

جذباتی اور سماجی تعلیم کے حوالے سےچند فلسفیوں جیسے فلپ، نیل یا ہالٹ وغیرہ بچوں کی جذباتی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی درسگاہوں پر اصرار کرتے ہیں جہا ں سیکھنے کی آزادی ہو ، جہاں بچوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ، انہیں احسا سِ کمتری سے دور رکھا جائے ، ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں بچوں کو سیکھنے کے بھرپور مواقع حاصل ہوں اور ایسے کھیل کھلائے جائیں جس سے ان میں مقابلے کی تحریک پیدا ہو۔ بچوں کو سماجی ، ادبی ، جسمانی اور جذباتی نشوونما فراہم کرتے ہوئے ان کے سیکھنے کے عمل کو بہتر انداز میں یقینی بنا یا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں