44

پی سی بی نے فاسٹ باولر محمد عامر کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہ لینے کے لئے راضی کرنے کی پوری کوشش کی

لاہور (نیوزڈیسک) پی سی بی نے فاسٹ بولر محمد عامر کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہ لینے کے لئے پوری کوشش کی لیکن محمد عامرکی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر پی سی بی نے اسے فیصلہ بدلنے کے لئے مجبور نہ کیا ۔ پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان نے قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بولر محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے

ریٹائرمنٹ کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ محمد عامر کی عمر 27سال ہے اور ہمیں اس کی ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن محمد عامر نے گزشتہ دو سال قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو اس بارے میں آگاہ کردیا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کھیلتے رہیں گے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں بولنگ کے لئے ان کا جسم انہیں اجازت نہیں دیتا ۔ پی سی بی نے محمد عامر کو سمجھانے کی پوری کوشش کی لیکن جب کسی کھلاڑی کا ذہن اور دل جس بات کو نہ مانے تو اسے مجبور نہیں کیا جانا چاہئے جس پر پی سی بی نے محمد عامر کی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کا احترام کیا ۔وسیم خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 2اگست کو پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کے اجلاس جس میں وسیم اکرم ،مصباح الحق ،ذاکر خان ،ہارون الرشید ،عروج ممتاز ،مدثر نذر بھی شریک ہوں گے جس میں نہ صرف قومی کرکٹ ٹیم اور کپتان کی ورلڈ کپ میں پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے دور میں قومی ٹیم کی گزشتہ تین سال کی پرفارمنس ،خامیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا جائے گا اور پھر سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو دی جائیں گی جو

اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے ۔ وسیم خان نے کہاکہ ہماری کوشش ہوگی کہ ٹیم کو لیڈ کرنے کے لئے کئی کھلاڑیوں کو تجربہ دلوائیں جبکہ ٹیم کا نائب کپتان نوجوان ہوگا تاکہ وہ کپتان سے سیکھ سکیں اور بعد میں ٹیم کی قیادت سنبھالتے ہوئے اسے کوئی مسئلہ نہ ہو۔وسیم احمد کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل کے لئے دو ماڈل زیر غور ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹیم کی پرفارمنس کے بارے میں ٹیم مینجمنٹ نے اپنی رپورٹ پی سی بی کو دیدی ہے جس پر کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا ۔ ایک تو سلیکشن کمیٹی کا موجودہ ماڈل اور دوسرا چیف سلیکٹر کے ساتھ صوبوں کی ٹیموں کے کوچز کو سلیکشن پینل کا حصہ بنانا ہے ،جو ٹیم کے لئے بہتر ہوگا اس پر عمل کریں گے ۔وسیم خان نے کہاکہ پاکستان سپر لیگ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا گیٹ وے ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ 9اگست کو ایم سی سی ورلڈ کرکٹ کمیٹی میں شرکت کے لئے انگلینڈ جائیں گے اور پاکستان میں ٹیموں کی سیکورٹی کے انتظامات کے بارے میں پریزینٹیشن دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم سی سی کی طرف سے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کے بارے میں بھی ایک تجویز زیر غور ہے اور کمیٹی کے تمام

ممبران پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی چاہتے ہیں ۔وسیم خان نے بتایا کہ انگلینڈ میں پاکستانی ایمپائرز کو ایمپائرز ایکسچینج پروگرام کے طور پر بھجوایا جارہا ہے جبکہ کرکٹ آسٹریلیا سے بھی اس بارے میں بات چیت جاری ہے ۔ وسیم خان نے بتایا کہ پی سی بی کا ٹارگٹ ٹیسٹ چیمپئن شپ ،انڈر 19ورلڈ کپ اور آسٹریلیا میں اگلے سال ہونے والا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ہے جس کے لئے قومی ٹیم کی تیاریاں جاری ہیں ۔اور اللہ کے فضل سے ہماری ٹیم ان ٹورنامنٹس میں کامیاب ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پی سی بی کے اقدامات کے مستقبل قریب میں بہتر نتائج سامنے آنا شروع ہوجائیں گے ۔ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگی اور شائقین غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنی سر زمین پر کھیلتا دیکھ سکیں گے ۔انہوںنے کہاکہ ملک میں بہترین مختلف وکٹیں بنائیں گے تاکہ ہمارے بلے بازوں اور بولرز کو غیر ملکی وکٹوں پر کھیلتے پریشانی نہ ہو۔پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے تاہم ان کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں