30

کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی : پاکستان اب بھارت کے خلاف کیا قدم اٹھائے گا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا کی طرف سے کشمیر کی ریاست کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ پاکستان کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے؟ پاکستان کے پاس اب کیا آپشنز ہیں اور کیا وہ انڈیا کو کشمیر میں من مانی کرنے سے روک سکے گا؟

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ کیا کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا افغانستان میں قیام امن کی تازہ کوششوں سے کوئی تعلق ہے؟ ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی کے رفاقت علی نے پاکستان کے دو سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ اور شمشاد احمد سے بات کی ہے۔انڈیا نے کشمیر میں جو اقدام کیے ہیں ان سے اس کا اپنا گھناؤنا چہرہ سامنے آیا ہے۔ وہ پچھلے دس برسوں سے اس کی تیاری کر رہا تھا۔جب صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ پاکستان کو بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈیا کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اقدام دراصل صدر ٹرمپ کو جواب ہے۔انڈیا میں اس وقت وہی سوچ ہے جو پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ناکام حکمرانی کے جو ادوار گزرے ہیں، اس سے انڈیا کو مزید حوصلہ ملا ہے۔کشمیر کے مسئلے پر پاکستان ہمیشہ حق پر تھا اور ہے اور پاکستان کی حکومت نے ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر وہ اقدامات کرنے شروع کر دیئے جو اسے کرنے چاہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور او آئی سی کو مراسلے لکھے ہیں اور دنیا کی طاقتوں کو اس بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ اب کتنا مؤثر ادارہ ہے۔ حقیقت میں وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کر پاتا لیکن وہ اپنی قراردادوں کا محافظ ہے۔ اس لیے پاکستان کو اقوام متحدہ کے دروازے پر ہی دستک دینی ہو گی۔

اب اقوام متحدہ کے لیے لازم ہے کہ وہ انڈیا کو روکے۔ انڈیا نے کشمیر کے بارے میں جو فیصلے کیے ہیں اس سے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ ایسے اقدامات کرے گا جس سے نریندر مودی کو لگام دیا جا سکے گا۔نریندر مودی نے اپنی بیمار ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اور اُن کو نہیں معلوم کہ اگر صورتحال ہاتھ سے نکل گئی تو کشمیر آج ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔سنہ 2008 میں صدر اوباما نے بطور صدارتی امیدوار کہا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے اور وہ مسئلہ کشمیر حل کرانا چاہیں گے لیکن جب وہ صدر منتخب ہو گئے تو اسی وقت ممبئی کا واقعہ ہو گیا اور پھر کشمیر صدر اوباما کی ڈکشنری سے غائب ہو گیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ممبئی واقعے کو کس نے انجنیئر کرایا تھا اور اس کا فائدہ کسے ہوا تھا۔جب ٹرمپ نے کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کی تو اسی وقت واضح ہو گیا تھا کہ انڈیا کشمیر میں کچھ بڑا کرے گا۔ لیکن اب جب صورتحال سامنے آ چکی ہے، پاکستان کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔پاکستان بطور نیوکلیئر طاقت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے دوستوں اور عالمی طاقتوں سے مشورے کے بعد اپنی حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے۔ پاکستان کی حکومت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں پاکستان میں اپنے آپ کو ملک کے اندر مضبوط رکھنا ہے

اور ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو معلوم ہے کہ انڈیا نے جو کچھ کیا ہے اس کی قانونی بنیادیں مضبوط نہیں ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ایک عالمی تنازعہ ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اور پاکستان اور انڈیا کے مابین ہونے والے تمام دو طرفہ معاہدوں میں اس کا بار بار ذکر ہے۔ جب انڈیا پاکستان سے بات نہیں بھی کرتا تھا تب بھی کہا جاتا تھا کہ وہ شملہ معاہدے پر قائم ہیں۔انڈین سکیورٹی فورسز جو کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں اس سے یہ مسئلہ شدت اختیار کرے گا اور طوفان اٹھے گا۔ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جنھوں نے اپنے آپ کو انڈیا کے ساتھ نتھی کر رکھا تھا، انھوں نے بھی انڈیا کے ایکشن کو غاصبانہ قبضہ قرار دیا ہے۔ انڈیا جتنا بھی جبر کرے گا اس کے خلاف اتنی ہی مزاحمت ہو گی۔پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر جائے گا اور بتائے گا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔پاکستان اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کی انٹرنیشنل حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔’اب کشمیر میں ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس میں انڈیا کہے گا کہ پاکستان کی وجہ سے کشمیر میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انڈیا کہہ رہا ہے کہ آٹھ لوگوں نے دراندازی کی کوشش کی ہے۔ اس سے وہ پاکستان پر بہتان نہیں لگا سکے گا لیکن پاکستان کو بہت محتاط رہنا ہو گا تاکہ ان کے پاس کوئی شہادتیں نہ ہوں۔میرے خیال میں افغانستان میں صلح کی کوششوں کو آگے بڑھانا پاکستان کے مفاد میں ہے اور خطے میں رونما ہونے والی دوسرے واقعات کی وجہ افغانستان میں امن کی کوششیں رکنی نہیں چاہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان امریکہ اور دوسرے دوستوں کو یہ بھی سمجھائے گا کہ اگر خطے میں استحکام کے لیے پاکستان اور انڈیا کے تنازعے حل ہونے کی ضرورت ہے۔افغانستان میں امن کا قیام ایک مشکل کام ہے اور اگر سیزفائر ہو جاتا ہے اس کے بعد بھی کئی سال تک بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔ میرے خیال میں افغانستان میں امن کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں