38

اگر عمران خان کو مسئلہ کشمیر پر عالمی سپورٹ حاصل کرنی ہے تو وہ یہ کام کریں ۔۔۔۔ ہارون الرشید نے بڑے کام کا مشورہ دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک)تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ آزاد کشمیر کی بارڈر کیساتھ فوج تعینات کرے کیونکہ بھارت نے بھی8 لاکھ فوج لگارکھی ہے ا ورایسا کرنے سے دنیا کو ہماری سنجیدگی بھی نظر آئیگی۔چین نے بھارتی اقدامات کیخلاف اور پاکستان کے حق میں واضح بیان دیا لیکن دیگرممالک کی

طرف سے ہمیں کوئی خاص سپورٹ نہیں ملی،عالمی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو خود جانا ہوگا۔نجی ٹی وی کے پروگرام’’مقابل ‘‘میں میزبان علینہ شگری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ، وزیراعظم کی تقریر ویسے تو اچھی تھی لیکن انہیں تکرار کیساتھ کہناچاہئے تھا کہ ہم کشمیریوں کیساتھ ہیں۔کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائینگی۔ ہم نے ابھی کوئی حکمت عملی تشکیل نہیں دی ،وزیراعظم نے کمیٹی بنا کراچھا کیا لیکن اصل معاملہ سلامتی کمیٹی میں طے ہوگا۔ نواز شریف کو مودی کی تقریب حلف برداری میں نہیں جاناچاہئے تھا،عسکری قیادت نے بھی صاف مشورہ دیا تھا کہ نوازشریف نہ جائیں لیکن وہ اس کو مستردکرتے ہوئے وہاں چلے گئے تھے ۔ مریم نواز بیان دیکر خود کو تنہائی میں دھکیل رہی ہیں جبکہ اسکے چچا کچھ اور کہہ رہے ہیں۔مریم وزیراعظم کو مورد الزام ٹھہرارہی ہیں، کیا بھارت کو عمران نے کہا ہے کہ وہ ایسا کرے ؟۔ بھارت میں راہول گاندھی ،ممتابینر جی اور دیگر نے کہاہے کہ بھارت اس معاملہ پر پچھتائے گا لیکن ہمارا کمال یہ ہے کہ ہم دنیا کو کچھ بتا ہی نہیں سکے ۔ جو سفیر کام نہیں کررہے ان کو تبدیل کیاجائے ۔ماضی میں دس سال تک کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے کی گئی جس نے کچھ نہیں کیا ۔شہبازشریف کو یہ نہیں پتہ کہ ا فغانستان میں امن ہمارے مفاد میں ہے ۔افسوس ہے کہ ابھی تک ہم امریکی پریس میں نہیں گئے ، وزیراعظم ایک مضمون لکھیں تو بحث شروع ہوجائیگی۔چین کیساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ ہوسکتا ہے ،چین کو ایک مستحکم پاکستان چاہئے ۔ بھارتی بینرز کا لگانا را کا ایجنڈا ہے اوراسکا سراغ لگا لیا جائیگا۔تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستانی دفترخارجہ کا کردار کوئی خاص نہیں، پاکستان کو دنیا کو کچھ ایسے اشارے بھیجنا ہونگے تاکہ دنیا اسکی طرف متوجہ ہو۔ پاکستان فوری طورپر فضائی حدود کو بند کرے اسکے بعد کوئی اوراقدام کرے ۔ ہوسکتا ہے کہ بھارت نے امریکہ ، روس، فرانس اوربرطانیہ کو پہلے اس حوالے سے بتایا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ نے اسکے بعد ثالثی کا بیان دیاہو۔ جتنازیادہ کشمیری عوام اوربھارتی عوام کا ردعمل ہوگا اتناہی دبائو بھارتی سپریم کورٹ پر پڑیگا۔ (ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں