26

اپنی اولاد پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی مد نظر رکھیں، آسٹریلوی سکول

سڈنی:آسٹریلیا میں ایک پرائیویٹ سکول کے سربراہ نے والدین کے نام ایک خط میں انہیں خبر دار کیا ہے کہ ان کی علیحدگی کے ان کے بچوں اور بچیوں کی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آسٹریلوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک کے معروف سینٹ اینڈریوز کیتھڈرل سکول کے پرنسپل ڈاکٹر جان کولیئر نے کہا کہ وہ والدین کی علیحدگی کے ان کے بچوں اور بچیوں پر پڑنے والے انتہائی منفی اثرات کا گذشتہ تیس سال سے مشاہدہ کررہے ہیں۔علیحدگی کی صورت میں والد سے محروم ہونے والی بچیاں عموماً غیر مردوں سے تعلقات قائم کر لیتی ہیں اور بچے اپنی ماﺅں کو مسترد کر دیتے ہیں۔ناچاقی کی صورت میں والدین آپس کے جھگڑوں میں اس قدر کھو جاتے ہیںکہ وہ اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان جھگڑوں کے ان کے بیٹوں اور بیٹیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر آپس کے جھگڑے بند کر دیں۔باہمی جھگڑوں کی صورت میں میاں بیوی کی ساری توجہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر مرکوز ہوتی ہے اور اس دوران وہ اس بات کا احساس نہیں کرتے کے ان جھگڑوں کا سب سے زیادہ نقصان وہ ایک دوسرے کو نہیں بلکہ اپنی اولاد کو پہنچا رہے ہیں۔

آسٹریلوی ریاست نیو ساﺅتھ ویلز میں ریلیشن شپس آسٹریلیا نامی ادارے کی سربراہ ایلزبتھ شا نے ڈاکٹر جان کولیئرکے مشاہدات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر والدین کے لئے علیحدگی ناگزیر ہی ہو جائے تو وہ بچوں کی خاطر ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑے کی بجائے افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں تاکہ ان کے اس عمل کے ان کے بچوں پر پڑنے والے منفی اثرات کچھ کم ہو سکیں۔ڈاکٹر جان کولیئر نے مزید کہا کہ علیحدگی اختیار کرنے والے والدین اپنے بچوں کو اپنے سابق شریک حیات سے ملنے سے روکتے ہیں جس کی کوئی ٹھوس وجوہات نہیں ہوتیں۔

ان کا یہ طرز عمل بھی بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ اثرات بلوغت کی عمر سے گذر جانے والے بچوں پر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔والد کی شفقت سے محروم ہوجانے والی بچیاں عدم تحفظ کے احساس کے نتیجہ میں دوسرے مردوں سے غیر مناسب تعلقات استوار کر سکتی ہیں۔اس صورتحال کا سامنا کرنے والے بچوں میں دوسروں کو تحفظ فراہم کرنے کی اہلیت کم ہو جاتی ہے اور بعض اوقات وہ اپنی والدہ کے بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال اور خدمت سے گریز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جان کولیئر نے کہا کہ چونکہ بہت سے بچوں کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ایک استاد کی حیثیت سے وہ اس معاملے میں والدین کی آگاہی کو اپنا فرض منصبی تصور کرتے ہوئے یہ خط تحریر کر رہے ہیں کیونکہ کہ اپنے طلبہ کی تربیت ان کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں