57

کھانے کی کچھ ایسی چیزیں جو فریج میں ہرگز نہ رکھیں

سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری زندگی کو آسان اور سہل بنایا ہے وہیں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ سائنسی ایجادات چاہے جتنی بھی ترقی یافتہ ہوں، کچھ جگہوں پر وہ ہمیں کسی صورت فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔

ایسی ہی ایک مثال ریفریجریٹر کی ہے۔ فریج بہت سی اشیاءِ خوردونوش کو دیرپا تازہ رکھتا ہے اور انہیں خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ لیکن کچھ چیزیں فریج میں رکھنا تجویز نہیں کیا جاتا۔ ٹھنڈا درجہ حرارت چیزوں کا مزہ اور غذایت ختم کر سکتا ہے۔ یہ کچھ اسی چیزیں ہیں جو نارمل درجہ حرارت پہ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

کافی
کافی کو حد درجہ تازہ رہنے کے لئے خشک جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریفریجریٹر کا درجہ حرارت زیادہ سرد ہوتا ہے۔ کافی کا میعار برقرار رکھنے ک لئے اسے ہوا بند جار میں گرمی اور نمی سے دور رکھنا ضروری ہے۔

ڈبل روٹی
سرد درجہ حرارت چیزوں پر خشکی لاتا ہے۔ ڈبل روٹی فریج میں رکھنے سے خشک اورباسی پڑجاتی ہے۔ اور چبانے میں سخت محسوس ہوتی ہے۔

لہسن اور پیاز

لہسن اور پیاز فریج میں رکھنے سے نرم پڑ جاتے ہیں۔ انہیں دیرپا تازہ رہنے کے لئے کھلی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دونوں جالی دار تھیلے میں بہتر طریقے سے محفوظ کی جاسکتی ہیں۔

شہد
فریج میں رکھا شہد جم کر کریسٹل بن جاتا ہے جسکی وجہ سے اسے چمچ سے باہر نکالنےمیں مشکل پیش آسکتی ہے۔ شہد میں قدرتی طور پر خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

مالٹا
مالٹا سٹرس فروٹ ہے اور ہر طرح کا سٹرس فروٹ حد سے ذیادہ سرد درجہ حرارت پر اپنی ایسڈیٹی کھو دیتا ہے۔ اسکا چھلکا دھبےدار ہوجاتا ہے اور مزہ کڑوا پڑ جاتا ہے۔

آلو
پکانے سے پہلے آلو خشک اور ٹھنڈی جگہ رکھنے چاہیئے۔ اور انہیں صرف استعمال سے تھوڑی دیر قبل ہی دھونا چاہیئے۔ فریج کا درجہ حرارت آلو میں موجود سٹارچ کو ختم کردیتا ہے جس کی وجہ سے آلو ذائقہ میں میٹھا ہوجاتا ہے۔

سویا ساس
سویا ساس فرمینٹیشن کے عمل سے گزارا گیا ہوتا ہے، اسلئے اسے فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ کچھ کمپنیاں ریفریجریشن تجویز کرتی ہیں کیونکہ ان میں نمکیات کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔

پسے مصالحہ جات
زیادہ تر خشک مصالحہ جات سالہ سال تک بنا ریفریجریشن کے محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔ مصالحوں کو فریج میں رکھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ بلکہ اس سے مصالحوں کے ذائقہ پر فرق پڑ سکتا ہے۔ لمبا عرصہ گزر جانے سے صرف مصالحوں کی تاثیر اور خوشبو ختم ہوجاتی ہے۔

کیلے
کیلے قدرتی طور پر گرم آب و ہوا میں پیدا ہونے والا پھل ہے۔ اور اسی لئے کیلے کی غزایت بہتر طور پر کمرے کے درجہ حرارت میں رکھ کر ہی محفوظ رکھی جاسکتی ہے۔ فریج میں رکھنے سے کیلے کے پکنے کا قدرتی عمل ماند پڑ جاتا ہے۔

زیتون کا تیل
زیتون کا تیل خشک اور اندھیری جگہ رکھنا چاہیئے۔ فریج میں رکھنے سے جم جاتا ہے۔ یہ سخت ہوکر کسی مکھن کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔البتہ اسے جلد سے جلد استعمال کر لینا چاہیئے ورنہ اسکی اینٹی آکسیڈینٹس خصوصیات ختم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں