59

غذائی اجزاء سے بھرپور” حلیم“ دراصل ایشیاء اور مشرق اوسط کی صدیوں پرانی مقبول ڈش

پروٹین، کاربو ہائیڈریٹس اور دیگر غذائی اجزاء سے بھرپور” حلیم“ دراصل ایشیاء اور مشرق اوسط کی صدیوں پرانی مقبول ڈش ہے، اسے عربی میں ہریس یاہریسہ اور دیگر زبانوں میں کھچڑا اور دلیم بھی کہاجاتاہے۔ عربی ڈش ہریس یاہریسہ بنانے کاآغاز کب ہوا، اس کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں لیکن یہ طے ہے کہ یہ ڈش مسلمانوں کی ایجاد کردہ ہے۔
بعض مورخین کے نزدیک اس کاآغاز 10ویں صدی میں ہوا۔ ایک عربی مصنف ابومحمد المظفرابن سیارنے اس دور کے مقبول کھانوں کی تراکیب پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی، جس میں ہریسہ سمیت وہ تمام ڈشز شامل تھیں جوان دنوں بغداد کے بادشاہ، خلفاء اور نوابین بہت شوق سے کھاتے تھے۔
کھانے پکانے کی تراکیب پرمبنی یہ کتاب عربی کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ ترکی ، ایران، پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بھی حلیم کو ایک مقبول ڈش کی حیثیت حاصل ہے لیکن ہر خطے کے لوگ اسے اپنے اپنے انداز میں بناتے ہیں۔

حلیم بنانے کے اجزاء میں بکرے یاگائے کاگوشت، گندم، جو، چاول، دالیں اور گھی استعمال کیاجاتا ہے اور ان تمام اجزاء کومصالحوں کے ساتھ کم ازکم 6سے7گھنٹوں تک ہلکی آنچ پرپکانے کے بعد خوب گھوٹا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں لیس پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ملائی کی طرح ہوجاتاہے۔
دیگر ممالک کے برعکس پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں بنائے جانے والے حلیم میں مصالحوں کااستعمال بکثرت کیا جاتاہے۔ عرب ممالک میں حلیم کوعموماََ ہریس کہاجاتا ہے اور یہ بکرے، گائے اور اونٹ کے گوشت گھی گندم، چاول، تمام سبزرنگ کی دالوں لہسن کی پیسٹ سیاہ مرچ اور نمک کے ساتھ پکایا جاتاہے۔
ہریس پکانے کے بعد اسے گھی یازیتون کے تیل، سیاہ مرچ اور تلی ہوئی براؤن پیاز کے سارگ گارنش کیاجاتا ہے ایرانی حلیم کی تیاری میں ٹرکی، گندم، جو، پیازنمک اور دارچینی بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس حلیم کے اوپر پگھلے ہوئے مکھن، تل اور شکر سے ٹاپنگ (Topping) کی جاتی ہے۔
کشمیری ہریسے کی ترکیب ان سب سے جداہے۔ اسے مٹن یابیف، گندم ، دالوں، نمک ، سیاہ مرچ اور مکس گرم مصالحے سے بنانے کے بعد اسے دھینے کی چٹنی اور قیمے کے چھوٹے چھوٹے کبابوں سے گارنش کیاجاتاہے اور الگ سے گھی کا بگھارا لگا کرروغنی یاسادہ نان کے ساتھ سرو کیاجاتاہے۔
بنگال کے لوگ بیف کااستعمال کم کرتے ہیں اس لئے وہ زیادہ تربکرے اور مرغی کے گوشت سے حلیم بناتے ہیں۔ البتہ حلیم بنانے کے لئے گوشت کو لہسن ادرک کی پیسٹ سرخ، نمک، ہلدی اور پسے ہوئے گرم مصالحہ میں رات بھرکے لئے میر ینیڈکیا جاتا ہے پھر اس میں گندم ڈال کرپکانے کے بعد خوب گھوٹا جاتاہے۔
” بنگالی حلیم“ کی ٹاپنگ میں پودینہ، تلے ہوئے پیاز، لیموں کے ٹکڑے، بھنے ہوئے کاجو اور بادام استعمال کئے جاتے ہیں۔ہریسہ حیدرآباد (متحدہ ہندوستان) نظام کی فوج میں شامل عربی فوجیوں نے متعارف کرایاتھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں نے اسے حلیم کے طور پر بنانا شروع کردیا۔
آج بھی حیدر آباد میں بالخصوص محرم اور رمضان کے مقدس مہینوں میں تقریبا ہر گھر میں حلیم اور ہریسہ بنایا جاتا ہے اور ملک کے دوسرے حصوں میں پارسل بھی کیاجاتاہے۔ حیدرآباد میں اب بھی حلیم لکڑیاں کی آگ پربنانے کوترجیح دی جاتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں