58

سینیٹ انتخابات : پنجاب میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب، سندھ میں پیپلز پارٹی کی برتری

اسلام آباد اور فاٹا کے نتائج
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تنائج کے مطابق فاٹا کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمان اور مرزا محمد آفریدی ہیں۔ فاٹا سے 11 اراکین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا تھا تاہم ان میں سے 7 اراکین نے ووٹ ڈالے۔ تین اراکین نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تحفظات کے پیشِ نظر ووٹ نہیں ڈالے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کی دو سیٹوں میں سے جنرل سیٹ پر اسد علی خان جونیجو اور ٹیکنوکریٹ سیٹ پر مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔

ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ان انتخابات میں اپنے ووٹ نہیں ڈالے۔

تاہم واضح رہے کہ اب تک الیکشن کمیشن نے اسلام آباد اور فاٹا کی سیٹوں کے علاوہ کسی بھی سیٹ کے نتائج کا حتمی اعلان نہیں کیا ہے۔ ادھر دیگر اسمبلیوں میں ابھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں نتائج کا اعلان متوقع ہے۔
پنجاب کے نتائج
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 12 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 11 نشستیں جیت لی ہیں اور آخری نشست پر پی ٹی آئی کے چوہدری سرور کامیاب ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ چوہدری سرور کا تعلق پہلے مسلم لیگ ن سے تھا اور وہ پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی سے پاکستان مسلم لیگ ن کے کامیاب ہونے والے امیدواروں میں کامران مائیکل، آصف کرمانی، رانا مقبول، اسحاق ڈار، حافظ عبد الکریم، مصدق ملک، سعدیہ عباسی، خالد شاہین بٹ، ہارون اختر، زبیر گل، نزہت صادق شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں 368 اراکین نے ووٹ ڈالے اور یہ 100 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ہے۔
سندھ کے نتائج

سندھ کی 12 نشستوں میں سے 10 نشستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہو گئی ہے۔ جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو، محمد علی شاہ، مرتضیٰ وہاب جاموٹ، رضا ربانی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کامیاب ہوگئے ہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کے فروغ نسیم بھی جنرل کی سیٹ پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایک نشست پرفنکشنل لیگ کے مظفر حسین شاہ کو کامیابی ملی ہے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پیپلز پارٹی کے سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری سینیٹر منتخب ہوگئے۔ اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے انور لال ڈین جبکہ خواتین کی مخصوص نشست پر پی پی پی کی ہی کرشنا کوہلی اور قرۃ العین مری الیکشن جیت گئیں۔
بلوچستان کے نتائج

بلوچستان کی 7 جنرل نشستوں میں سے 5 پر آزاد امیدوار جبکہ دو پر سیاسی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔ جنرل نشستوں پر آزاد امیدوار احمد خان، صادق سنجرانی، انوارالحق کاکڑ، کہدہ بابر، پشتونخواہ میپ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یوسف کاکڑ جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولوی فیض محمد اور نیشنل پارٹی کے محمد اکرم سینیٹر منتخب ہوگئے۔ ٹیکنوکریٹس کی 2 نشستوں میں سے ایک پر نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور دوسری پر ن لیگ کے حمایت یافتہ نصیب اللہ بازئی کامیاب ہوگئے۔ خواتین کی نشستوں پر پشتونخوا میپ کی عابدہ عظیم اور آزاد امیدوار ثنا جمالی کامیاب ہوئیں۔
بلوچستان سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے 25 امیدوارسامنے آئے۔
وفاق اور پنجاب میں کامیابی حاصل کرنے پر مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اللہ کا شکر ادا کیا۔
واضح رہے کہ آج کے سینیٹ الیکشن میں کچھ ارکان اسمبلی نے حصہ نہیں لیا ان میں کنور نوید جمیل اور ڈاکٹر ناہید کے علاوہ مسلم لیگ ن کے عبدالقادر بلوچ اور جام کمال شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کے طاہر اقبال اور نثار جٹ نے بھی ووٹ نہیں ڈالا دونوں مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ عمران خان، عارف علوی اور اسد عمر بھی ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی ووٹ نہیں ڈالا کلثوم نواز بیماری کے باعث اب تک حلف نہیں اٹھا سکیں جس کی وجہ سے وہ بھی پولنگ میں شریک نہیں ہوسکیں۔ چوہدری پرویزالہی نے بھی سینیٹ انتخابات کیلئے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

خیبر پختونخوا کے نتائج
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اب تک ایک جنرل، ایک خواتین اور ایک ٹیکنو کریٹ سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق اور انیسہ زیب کامیاب نہیں ہو سکے۔

خواتین کی دو نشستوں پر تحریک انصاف کی مہرتاج روغانی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کامیاب ہوئی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں صوبے کی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد قائم ہوئے تھے۔ ان میں تحریک انصاف اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کے درمیان اتحاد تھا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ اتحاد کیا تھا تو ادھر عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کی باتیں ہو رہی تھیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد تو ایک سو چوبیس ہے لیکن پی ٹی آئی کے ایک رکن بلدیو کمار نے اب تک حلف نہیں لیا جبکہ عبدامنعم کو نااہل قراد دیا جا چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلر پارٹی عوامی مقبولیت کھو چکی ہے لیکن جوڑ توڑ کی سیاست میں مہارت رکھتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف پنجاب سے تعلق رکھنے والے فیصل جاوید کو بھی خیبر پختونخوا اسمبلی سے کامیاب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ٹیکنو کریٹس کی سیٹ پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے دلاور خان اور جنرل سیٹ پر پیر صابر شاہ کامیاب ہوئے ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے طلحہ محمود بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں