83

سرگودہا سے افسوسناک خبر: ایک ہی دن میں ایک ہی جگہ پر 6 بچے زندگی کی بازی ہار گئے

سرگودھا(ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ ٹیچنگ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں چھ نومولود بچوں کی ایک ہی دن میں اموات معمہ بن گئی۔ لواحقین نے اموات کا ذمہ دار اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کو قرار دے دیا جب کہ ڈاکٹروں نے اموات کی بنیادی وجہ بچوں کی قبل از وقت پیدائش بتائی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں کی یکے

بعد دیگرے ہونے والی اموات کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ڈسٹرکٹ ٹیچنگ اسپتال سرگودھا کے چلڈرن وارڈ میں نصف درجن نومولود بچے ایک ہی دن میں زندگی کی چند سانسیں لے کر ہمیشہ کی نیند سو گئے تو لواحقین کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا۔جن بچوں نے اپنی جانوں کی بازی اسپتال میں ہاری وہ مختلف علاقوں سے اسپتال لائے گئے تھے۔نومولود بچوں کے لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کے باعث ایئرکنڈیشنرز کام نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے سخت گرمی اور شدید حبس ہے جو بچوں کی اموات کی وجہ بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹروں کی غفلت بھی ہے کہ انہوں نے مناسب دیکھ بھال نہیں کی اور نومولودوں کو درکار توجہ نہ دی۔ اسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ ایئرکنڈیشنرز کے کام نہ کرنے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام بچوں کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔بچوں کی قبل از وقت پیدائش فی الوقت میڈیکل سائنس میں کوئی غیرمعمولی واقعہ تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روزآنہ قبل از وقت پیدا ہونے والے سینکڑوں نومولودوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔ اسپتال کے ایم ایس کے مؤقف کو میڈیکل سے وابستہ افراد حیران کن ہی قرار دیں گے۔افسوسناک امر ہے کہ نومبر2014 میں بھی اسی اسپتال میں دس نومولود بچوں کی اموات ہوئی

تھی۔ اس وقت داعی اجل کو لبیک کہنے والے نومولود بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ اسپتال میں آکسیجن کی کمی تھی جس کی جانب انہوں نے ڈاکٹروں کی توجہ متعدد مرتبہ مبذول بھی کرائی لیکن توجہ نہ دی گئی اور بچے دم توڑ گئے۔اس وقت کے صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا دعویٰ تھا کہ بچوں کو جب سرکاری اسپتال لایا گیا تھا تو اسی وقت ان کی حالتیں غیر تھیں۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بچوں کی ہونے والی اموات کا نوٹس لے کر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔سرگودھا میں ڈسٹرکٹ ٹیچنگ اسپتال کو اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی کا سرکاری دعویٰ بھی سامنے آیا تھا۔مئی 2015 میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال وہاڑی کے چلڈرن کمپلیکس میں وینٹی لیٹرز کی خرابی کے باعث بھی آٹھ نومولود بچے دم توڑ گئے تھے اور چھ کی حالت غیر ہوگئی تھی۔ جب اسپتال میں کہرام مچا تو اس کے بعد اسپتال انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ہوش آیا تھا لیکن اس وقت تک آٹھ بچے جان کی بازی ہار چکے تھے۔جون 2019 میں بڑی مشکل سے پنجاب کے محکمہ صحت نے اعتراف کیا تھا کہ ساہیوال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال میں چند گھنٹوں کے اندر آٹھ نومولود بچوں کی اموات ہوگئی تھی۔ یہ اعتراف سرکاری طور پر کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں نومولود بچوں کی شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ جہاں پیدا ہونے والے ہر22 میں سے ایک بچہ پہلے ماہ میں ہی موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ایک ادارے یونییسیف نے 1990 سے 2016 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ایک فہرست شائع کی ہے۔ فہرست میں تمام ممالک کی درجہ بندی نومولود بچوں کی شرح اموات کے مطابق کی گئی ہے۔دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 26 لاکھ بچے پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ ممالک میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی فہرست کے مطابق پاکستان نومولود بچوں کے لیے خطرناک ترین جب کے جاپان محفوظ ترین ملک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں