109

بریکنگ نیوز 7 لاکھ سے زائد غریبوں کے لیے خوشخبری ۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان نے شاندار اعلان کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کارڈ سےغریب افراد 7 لاکھ 20 ہزار میں اپناعلاج کرا سکیں گے.ان خیالات کا اظہار انھوں نے خصوصی افراد کے لئے صحت سہولت پروگرام کے آغاز پر کیا، اس موقع پر انھوں نے صحت سہولت کارڈز بھی تقسیم کیے.ان کا کہنا تھا کہ وژن انسان

کا روڈ میپ ہوتا ہے، قوموں کے بھی وژن ہوتے ہیں، پاکستان جس وژن کے لئے بنا تھا، ہم اس سے دور چلے گئے ہیں، پاکستان کومدینہ ریاست کے اصولوں کے مطابق فلاحی ریاست بنانا تھا.وزیر اعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست ماڈل ریاست تھی، وہ انسانیت اور انصاف کے تحت کھڑی تھی، قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی سنت پر چلوہمارے نبی کریم ﷺدنیا کی تاریخ کی سب سے بڑےکامیاب انسان تھے، ہزارسال تک مسلمانوں نے دنیا میں امامت کی تھی. ریاست میں پہلے رحم، انسانیت اورعدل و انصاف ہونا چاہیے، یہ بنیادی ضرورت ہے.انھوں نے کہا کہ یہاں کے سابق سربراہ کہتے تھے کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دوں گا، ہم نے کوئی کام جلدی میں شروع نہیں کیا، دکھاوا نہیں کیا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی زندگیاں بہتر بنائے، انھیں ساز گار ماحول فراہم کرے. ایسا نہ ہو، ایک آدمی کو4، 4 بار زکوٰة مل رہی ہو، جب غریب گھرانے میں بیماری آتی ہے، تو اسے قرض لینا پڑتا ہے، کینسر کاعلاج مہنگا ہے، غریب گھرانے اس کاعلاج کرانے کے لئے تباہ ہوجاتے تھے، بیماری غریب کو مزید مشکلات میں مبتلا کردیتی ہے، اب وہ صحت کارڈ سے اپنا علاج کروا سکیں گے.وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہر ہفتے ہر وزارت عام آدمی کی زندگی بہترکرنے سے متعلق آگاہی دے گی. اسلام آباد میں خصوصی افراد کے لیے صحت سہولت پروگرام کے آغاز کے موقع پر تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے اپنے وژن کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وژن انسان

کا روڈ میپ ہوتا ہے، یہ وہ مقصد ہوتا ہے، جس پر انسان ساری زندگی محنت کرکے پہنچتا ہے,وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کارڈ سےغریب افراد 7 لاکھ 20 ہزار میں اپناعلاج کرا سکیں گے۔عمران خان نے کہا کہ قوموں کی بھی وژن ہوتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان جس خواب پر بنا تھا، ہم اس سے بہت دور چلے گئے ہیں، تاہم ہم نے واپس اسی وژن پر لانا ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وژن یہ تھا کہ اسے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر ایک فلاحی ریاست بنایا جائے، مدینہ کی ریاست کے بارے میں ہر بار اس لیے بتاتا ہوں تاکہ بچے، بچے کو پتہ چل سکے کہ وہ کیا ریاست تھی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست ایک جدید ریاست تھی، اس میں جدید تصورات تھے، اس کی بنیاد 2 اصولوں انسانیت اور انصاف پر کھڑی ہوئی تھی اور ایک مہذب معاشرے اور جانوروں کے معاشرے میں یہی فرق ہوتا ہے۔ نہوں نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں انصاف ہوتا نا انسانیت ہوتی، وہاں رحم نہیں ہوتا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا حساب ہوتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں لوگ غریب تھے، جنگ کے دوران 313 لوگوں (صحابہ) کے پاس ہتھیار نہیں تھے، نبی پاکؐ دنیا کے بہترین انسان تھے، لوگوں کو سٹیو جابز اور بل گیٹس کو نہیں نبی پاکؐ کی زندگی کو پڑھنا چاہیے۔ سب کو کہنا چاہتا ہوں انہی کی زندگی سے سیکھیں، ہم سے پہلے لوگوں نے عمل کر کے دکھایا اور ہزار سال تک مسلمانوں کے پاس حکمرانی رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں