37

وہ ایک کرنسی جس کا 1روپیہ 17لاکھ پاکستانی روپے میں فروخت ہونے لگا

امریکہ: ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت 17 لاکھ پاکستانی روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں گذشتہ دو سال کے دوران تقریباً دو لاکھ روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2017ء میں دنیائے انٹرنیٹ کی اس کرنسی کے ایک یونٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایک سکے کی قیمت 14 ہزار 450 ڈالرز( 15 لاکھ 26 ہزار281 روپے ) پر پہنچ گئی تھی۔واضح رہے کہ کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جارہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ ہونا چاہئیے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈاؤن لوڈ کرکے بنایا جاسکتا ہے۔

والٹ اکاؤنٹس کو پے پال، کریڈٹ کارڈز یا بینک اکانٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مائیکروسافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں بٹ کوائن گردش کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپریل 2018ء میں پاکستان میں بٹ کوائن اور دیگر ورچوئل کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ملک میں بٹ کوائن اور دیگر ورچوئل کرنسیوں کے استعمال، فروخت اور لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ لوگ ورچوئل کرنسیوں کے استعمال، فروخت اور لین دین سے پرہیز کریں۔ اگر کوئی بھی شخص ورچوئل کرنسیوں کے لین دین، فروخت یا استعمال میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی دنیا کے دیگر کئی ممالک بھی ورچوئل کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں