35

تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم، لیول1550 فٹ پر پہنچ گیا

لاہور(ویب ڈیسک) مصباح مخالف ٹیم کی غلطی کا انتظار کرتے ہیں‘پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نے مصباح الحق کو قومی ٹیم کو ہیڈ کوچ بنانے کی مخالفت کرتے ہوۓ یہ بات کی۔مائیک ہیسن کی جانب سے انکار کے بعد مصباح پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ

45 سالہ سابق کپتان کو ہیڈ کوچ کے عہدے کے ساتھ ساتھ چیف سیلیکٹر بھی بنادیا جائے گا۔ایک ویڈیو میں رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ مصباح کی دفاعی حکمت عملی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ مصباح کچھ خود کرنے کے بجائے مخالف ٹیم کی غلطی کا انتظار کرتے ہیں۔سابق کپتان نے زور دیا کہ پاکستان کو بے خوف اور جدید طرز کی کرکٹ کھیلنی ہوگی تب ہی گرین شرٹس کامیاب ہوسکتے ہیں۔ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی ٹیسٹ ٹیم کو اپنی جارحانہ حکمت عملی سے نئی سطح پر لے گئے ہیں اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔معروف کمنٹیٹر کا کہنا تھا کہ جارحنہ کرکٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈی این اے میں ہے، صرف اس حوالے سے درست منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اچھی ٹیم کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے قومی ٹیم کو ہر طرح کی کنڈیشنز میں فتوحات حاصل کرنا ہوں گی۔جبکہ دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ اچھا کوچ بننے کے لیے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کو اپنی شخصیت مزید مضبوط بنانی ہوگی۔پاکستان کرکٹ بورڈ

مکی آرتھر کے بعد قومی ٹیم کے لیے ہیڈ کوچ کی تلاش میں ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں مصباح الحق کا نام سرفہرست ہے جنہیں پاکستان کے بہترین ٹیسٹ کپتانوں میں شمار کیا جاتا ہے تاہم ان کی محدود اوورز کی کرکٹ میں کارکردگی ملی جلی تھی مصباح نے اپنی کپتانی میں پاکستان کو 24 ٹیسٹ میچوں میں کامیابی دلوائی جبکہ 87 ون ڈے میچوں میں پاکستان 45 میں کامیاب جبکہ 39 میں ناکام رہا۔ایک انٹرویو میں محمد وسیم کا کہنا ہے کہا کہ مصباح سیدھے سادھے انسان ہیں اور ایک کامیاب کپتان تھے تاہم انہوں نے ضرورت پیش آنے پر بھی اس طرح کی اتھارٹی قائم نہیں کی جو ٹیم کے لیے ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں چیف سیلیکٹر اور کوچ عہدہ دیا جاتا ہے تو انہیں ایک مضبوط شخصیت بنانی پڑے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق کو بطور ہیڈ کوچ منتخب کرلیا ہے جبکہ انہیں بیک وقت چیف سیلیکٹر کا عہدہ ملنے کا بھی امکان ہے۔ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ پی سی بی کی جانب سے باقاعدہ اعلان 19 اگست تک متوقع ہے۔پی سی بی ہیڈ کوچ کو ہی چیف سلیکٹر کی اضافی ذمہ داریاں دینے پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔پی سی بی کی

جانب سے قومی ٹیم کے کنڈیشنگ کیمپ کے لیے مصباح الحق کو نگراں مقرر کیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مصباح الحق اس وقت کرکٹ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور ان کی سفارشات کی روشنی میں ہی مکی آرتھر کو عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ ایک اور خبر کے مطابق سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر ڈین جونز نے بھی ہیڈ کوچ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو درخواست دے دی۔ ڈین جونز پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹیڈ کی کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ 2017 میں افغانستان کے انٹریم کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ پی سی بی نے ہیڈ کوچ سمیت دیگر اسپورٹ سٹاف کی بھرتی کے لیے 26 اگست تک اشتہار دے رکھا ہے۔ واضح رہے پی سی بی کی جانب سے سابق کپتان مصباح الحق کو بیک وقت بطور ہیڈ کوچ اور چیف سیلیکٹر کا عہدہ دینے کے حوالے سے بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ پی سی بی ہیڈ کوچ کو ہی چیف سلیکٹر کی اضافی ذمہ داریاں دینے پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے قومی ٹیم کے کنڈیشنگ کیمپ کے لیے مصباح الحق کو نگراں مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مصباح الحق اس وقت کرکٹ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور ان کی سفارشات کی روشنی میں ہی مکی آرتھر کو عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں