42

اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری

لاہور (نیوزڈیسک) : حکومت پنجاب نے اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین کو خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پی ایچ ڈی،ایم فل اور ایل ایل ایم کے ڈگری ہولڈرز سرکاری ملازمین کو ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا،گورنر پنجاب چوہدری سرور کے خصوصی ڈگری الاؤنس کے فیصلے کی توثیق کے بعد محکمہ خزانہ نے

نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔ ایم فل اور ایل ایل ایم ڈگری ہولڈرز سرکاری ملازمین کو پانچ ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔جب کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگری ہولڈر شخص کو ملازمت کے آغاز کی تاریخ سے رقوم ادا کی جائیں گی۔مراسلے کے مطابق سرکاری ملازمین کا الاؤنس لینے کے لیے ایچ ای سی کے زیر اہتمام یونیورسٹی کی ڈگری ہونا لازمی ہے۔ ملازمین کسی بھی پوسٹ ڈگری الاؤنس لے سکتے ہیں۔ گورنر پنجاب کے خصوصی ڈگری الاؤنس کے فیصلے کی توثیق کے بعد محکمہ خزانہ نے نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔جب کہ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بچوں کی پیدائش پر ملازمین کووالدین کو لازمیچھٹیاں فراہم کرنے کے بل پر پندرہ روز میں سفارشات طلب کرلیں جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر قرة العین مری نے اپنے بل میں تجویز دی ہے کہ بچے کی پیدائش پر ماں کو چھ ماہ اور باپ کو چار ماہ کی چھٹیاں فراہم کی جائیں ۔ پیر کو سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں سینیٹر قرة العین مری کے میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل 2018 پر غور کیا گیا سینیٹر قرة

العین مری نے بل کی تفصیلات سے کمیٹی کو آگاہ کیا بل میں سفارش کی گئی کہ پہلے تین بچوں تک والدین کو چھٹیوں کے دوران تنخواہ ملے گی جبکہ چوتھے بچے کی پیدائش پر سہولت نہیں دی جائیگی جوکہ چوتھے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا۔ جس پر سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ بل میں چیزوں کی واضح کرنے کی ضرورت ہے اس بل میں کنفیوژن ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ چھٹیوں کا دورانیہ بڑھانے کے ساتھ تنخواہ کا نہ ملنا سمجھ سے باہر ہے، بچے کی پیدائش کے موقع پر چھٹیوں کے ساتھ پیسوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔سپیشل سیکرٹری خزانہ نے کہا پیٹرنٹی کو سالانہ کی بنیاد پر اڑتالیس چھٹیاں پیڈ ملتی ہیں انہی میں سے وہ حاصل کر سکتا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ وزارت قانون اور وزارت خزانہ کے حکام سینیٹر قرةالعین مری اور سینیٹرمصدق ملک کے ساتھ مل کر 15 دن کے اندر اس بل کو تیار کر کے کمیٹی میں پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں