45

پاک چین فضائی افواج کی مشترکہ سالانہ مشقوں

بیجنگ (نیوزڈیسک) چین کے فوجی مبصر سینیئر کرنل ڈو وین لانگ نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کی چینی فضائیہ کے ساتھ حقیقی جنگ کے قریب ترین ماحول میں چین میں جاری مشترکہ سالانہ فوجی مشقوں ’’شاہین- ہشتم‘‘ کا مقصد دونوں ممالک کی فضائی افواج کے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔یہ تربیتی سرگرمیاں دونوں ممالک کی فضائی افواج کو

ایک دوسرے کے مقابل آکر سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ چینی فوج کی آفیشل نیوز ویب سائٹ چائنا ملٹری کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان مشقوں کے دوران پاک فضائیہ نے بہترین جنگی تجربے اور چینی فضائیہ نے جدید ترین ہتھیاروں، آلات اور ٹیکنالوجیز کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔دونوں افواج نے مشقوں میں اپنے روایتی، کلاسیکل اور اہم آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ ان سالانہ مشقوں کو بے حد اہیمت دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشقوں کے دونوں افواج نے جنگ کی صورتحال میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔چینی مبصر کے مطابق اس سال ان مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کو ایک دوسرے کے جنگی سرگرمیوں اور منصوبوں سے مکمل طور پر بے خبر رکھ کر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں افواج جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتی ہیں اور ارلی وارننگ ایئر کرافٹس پر مکمل طور پر انحصار کرتے ہوئے اپنے تربیتی منصوبوں کو نئی صورتحال کے مطابق فوری طور پر تبدیل کرتی ہیں۔ اہداف کے مکمل

حصول کے لئے یہ مشقیں سطوح مرتفع اور پہاڑی علاقوں میں کی جاتی ہیں اور چونکہ دونوں افواج کو ایک دوسرے کے منصوبوں کا علم نہیں ہوتا نہ ہی ان کے درمیان مواصلاتی روابط موجود ہوتے ہیں اس لئے حقیقی جنگ کے قریب ترین ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔مشقوں میں دونوں افواج کے تمام شعبوں سے تعلقرکھنے والے دستے اور تمام روایتی عناصر شامل ہیں۔ مثلاً چینی فضائیہ ان مشقوں میں جے۔10 سی، جے۔16 اور جے ایچ۔17 لٖڑاکا طیارے اور ارلی وارننگ ایئر کرافٹس کے ساتھ ساتھ زمین پر نصب ارلی وارننگ ایکوپمنٹ استعمال کر رہی ہے۔پاکستان کی طرف سے جے ایف۔17 تھنڈر اور میراج لڑاکا طیارے اور ارلی وارننک ایئر کرافٹس مشقوں میں شامل ہیں۔پاک فضائیہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے دستے بھی مشقوں میں شامل ہیں۔ چینی مبصر نے کہا کہ 1951ء میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ہمسایہ ملک سدا بہار دوست بن چکے ہیں۔دونوں ملکوں کی فضائی افواج کی یہ آٹھویں سالانہ مشترکہ مشقیں ہیں اور ان سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات مضبوط تر ہو رہے ہیں۔چینی مبصر نے کہا کہ یہ مشقیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔یہ

اس بات کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔ مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر اعتماد اور باہمی دوستی میں اضافے کا باعث ہیں۔ان مشقوں سے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے سے مانوس ہونے اور ایک دوسرے کے زیر استعمال اسلحہ بارے آگاہی ملتی ہے۔واضح رہے کہ اس سال مشترکہ مشقوں کا آغاز 23 اگست کو چین کے شمال مغربی علاقے میں ہوا تھا۔ شاہین ہفتم کے کوڈ نام سے دونوں ممالک کی فضائی مشقیں گذشتہ سال پاکستان میں ہوئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں