67

پب جی گیم کی وجہ سے پشاور کا رہائشی ریحان اسپتال پہنچ گیا

پشاور (نیوزڈسک) : معروف گیم پب جی نے پشاور کے ایک نوجوان کو اسپتال پہنچا دیا ۔ تفصیلات کے مطابق حریفوں کو مارنے اور آگے بڑھنے جیسے کئی ٹاسکس پر مبنی پب جی گیم قلیل عرصہ میں نوجوانوں میں مقبول ہو گئی لیکن حال ہی میں پشاور کا رہائشی ایک نوجوان ریحان اس گیم کی وجہ سے اسپتال پہنچ گیا۔ ریحان اس وقت پشاور کے ایک نجی

اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ والدین کے مطابق ریحان روزانہ کی بنیاد پر 12 سے 14 گھنٹے پب جی گیم کھیلتا تھا، قتل وغارت سے بھرپور گیم کھیلنے کی وجہ سے ریحان کے دماغ پر اثر پڑا جس کے بعد زبان اور جسم نے حرکت چھوڑ دی۔ والد نے بتایا کہ ریحان گیم کھیل کر سویا تھا ، ہم نے جب اسے صبح دیکھا تو اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور اس کے دل کی دھڑکن رُکی ہوئی تھی۔ اس سے قبل ریحان کا چچا زاد بھائی بھی اس گیم کے مضر اثرات کا شکار ہو چکا ہے۔ فرقان نے بتایا کہ ہم سب کزنز گیم کھیل رہے تھے ، مجھے اچانک پتہ نہیں کیا ہوا میں بے ہوش ہو گیا اور جب مجھے ہوش آیا تو میں اسپتال میں موجود تھا۔ اس حوالے سے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ قتل و غارت سے بھرپور اس گیم میں زیادہ وقت صرف رکھتا نفسیاتی امراض کا سبب بنتا ہے۔ ایسا کھیل نوجوانوں کے لیے جان لیوا بھی بن سکتا ہے۔ اس گیم میں آپ کو ٹارگٹ ملتا ہے اور جب تک کسی کو مار کر وہ ٹارگٹ حاصل نہ کر لیں تب تک آپ کو تسکین نہیں ملتی۔ اس گیم کے منفی پہلو اب نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ خیال رہے کہ معروف موبائل گیم ”پب جی (PUBG)”

کھیلنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس گیم میں دو ٹیموں کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے، ایک کھلاڑی سے لے کر 100 کھلاڑیوں تک کی ٹیم ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے جُڑتی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی جہاز سے زمین پر اُتر کر پہلے اسلحہ تلاش کرتے ہیں اور پھر سامنے والے کھلاڑی کو فائرنگ کر کے مارتے ہیں۔ فاتح کھلاڑی کو اعزاز میں ”چکن ڈنر” دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل نوجوانوں میں مقبول ہونے والی بلیو وہیل گیم بھی کئی جانیں نگل چُکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں