33

’ بورس جانسن‘ کو بڑا جھٹکا۔۔۔ اپنے ہی بھائی نے ایسا کام کر دیا کہ نامزد وزیر اعظم سر پکڑ کر بیٹھ گئے

لندن (ویب ڈیسک ) بورس جانسن ٹریزامے کے وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کے بعد بر طانوی وزیر اعظم بنے۔ برطانوی وزیر اعظم جب سے اقتدار میں آے ہیں انھیں کئی مشکلات کا سامنا ہے ۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی اوربرطانوی ممبر پارلیمنٹ مستعفی ہوگئے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پے درپے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑ رہا

ہے، برطانوی پارلیمنٹ میں نوڈیل بریگزٹ پر شکست اور 15 اکتوبر کو قبل ازوقت انتخابات کی اپیل کی مسترد ہونے کے بعد ان کے بھائی بھی ساتھ چھوڑ گئے ہیں، جو جانسن نےوزیراعظم کی قیادت پراحتجاجاً استعفیٰ دیا ہے.وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانسن نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں کیونکہ وہ خاندان سے وفاداری اور قومی مفاد کے درمیان پسنم کر رہ گئے ہیں۔جو جانسن کینٹ کے علاقے اورپنگٹن سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور موجودہ کابینہ میں وزیرِ تجارت ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جو جانسن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ جو کام وہ اِس وقت کر رہے ہیں اُس میں ایسا تناؤ جس میں کمی ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2009 سے اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ جو جانس اِس سے پہلے سابق وزیراعظم ٹریزا مے کی کابینہ سے بھی استعفیٰ دے چکے ہیں ، یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے معاملے پر ٹریزا مے کی حکمتِ عملی سے انھیں اختلاف تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم کی دارالعوام میں قبل ازوقت عام انتخابات کے لیے پیش کی گئی

قرارداد کو اراکین پارلیمنٹ نے مسترد کردیا تھا۔اس کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ جمعے تک دارالعوام میں بغیر کسی معاہدے کے بریگزٹ کو روکنے کے بل پر کام مکمل کرلیا جائے گا۔یاد رہے کہ برطانیہ کی حکمران کنزرویٹیو پارٹی کے کچھ باغی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان نے حکومت کی جانب سے برطانیہ کی 31 اکتوبر کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کو روکنے کے لیے بل منظور کروانے کے پہلے مرحلے میں حکومت کو شکست دے دی ہے۔ارکان پارلیمان نے اس بل کے حق میں 301 اور خلاف 328 ووٹ ڈالے جس کا مطلب ہے کہ اب وہ ایک ایسا بل پیش کریں گے جس سے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے عمل میں تاخیر ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں