83

وزیراعظم کا دورہ امریکہ : صدر ٹرمپ سے کب اور کتنی ملاقاتیں ہوں گیں؟ شیڈول طے کر لیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا شیڈول طے ، امریکی صدر ٹرمپ سے دو ملاقاتیں ہوں گی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے ۔ جیونیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کا شیڈول طے ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم 21 ستمبر کو نیو یارک پہنچیں گے اور 27ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے

خطاب کریں گے ۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم اہم ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کریں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی امریکہ میں قیام کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے دوملاقاتیں ہوں گی ، امریکی صدر سے ایک ملاقات ظہرانے پر جبکہ دوسری ملاقات ہائی ٹی پر ہوگی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران عالمی برداری کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے اورمقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وستم اور بربریت سے عالمی برادری کو آگاہ کریں گے ۔ امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر سربراہان مملکت سے ملاقاتوں میں بھی وزیر اعظم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا اصولی موقف پیش کریں گے ۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے 21 ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے اور 27 ستمبر کو عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے. وزیر اعظم عمران خان اپنے دورہ کے دوران صدر ٹرمپ سے 2 ملاقاتیں کریں جن میں سے ایک ملاقات ظہرانے پر جبکہ دوسری ہائی ٹی پر ہو گی. وزیرِ اعظم عمران خان

جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اہم ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے. رواں برس وزیر اعظم عمران خان کا دوسرا دورہ امریکا ہے، وہ اسی سال جولائی کے مہینے میں بھی امریکا کے دورے پر گئے تھے. واضح رہے کہ روسی ٹیلی ویژن سے انٹرویومیں وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک اندازمیں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکا کے کامیاب نہ ہونے کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا. عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، ہم نے 70 ہزار جانیں گنوائیں اور 100 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا. انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکا کی اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا اور میں شروع سے ہی اس جنگ کے خلاف تھا کیونکہ اگر ہم نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ نہ لڑتے تو اس وقت ہم دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتے. عمران خان نے کہا کہ اتنے نقصانات کے باوجود آخر میں امریکا کی ناکامی پر ہمیں ہی

قصوروار ٹھہرایا گیا اور امریکا اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے. وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کا فنڈ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے دیا تھا اور پاکستان نے مجاہدین کو تربیت دی، ایک عشرے بعد جب امریکا افغانستان گیا تو کہا گیا کہ یہ جہاد نہیں دہشت گردی ہے، یہ بہت بڑا تضاد تھا جسے میں نے محسوس کیا.انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب پاکستان امریکا کا اتحادی بنا تو یہ گروپس بھی ہمارے خلاف ہوگئے. 9 الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں ہم حصے دار بنے‘ پاکستان اس جنگ میں شامل نہ ہوتا تو آج اس کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک میں نہ ہورہا ہوتا اس جنگ میں پاکستان کی شمولیت پر میں نے ہمیشہ مخالفت کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں