96

بریکنگ نیوز: وزیراعظم عمران خان کا اچانک دورہ منسوخ۔۔۔ وجہ کیا بنی ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیراعظم نے کراچی اور خیبرپختوںخواہ کے دورے منسوخ کر دیے، طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کیلئے کھولنے کے منصوبے کا افتتاح بھی ملتوی کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا چودہ ستمبر ہفتہ کو ہونے والا دورہ کراچی ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم ہاوس ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران

خان نے کراچی کے مسائل پر ہفتہ کو کراچی کا دورہ کرنا تھا تاہم اب یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے ناصرف کراچی بلکہ خیبرپختوںخواہ کا شیڈول دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے کراچی اور خیبرپختونخواہ کے دورے اچانک منسوخ کر دیے جانے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ خیبرپختونخواہ کے دورے کے منسوخ کیے جانے کے باعث اب طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کیلئے کھلا رکھنے کی منصوبے کا افتتاح بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے وزیراعظم عمران خان دورہ امریکہ کے بعد کراچی اور خیبرپختونخواہ کے دورے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پارٹی قیادت کو کراچی آمد تک شہری مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو سٹریٹجک کمیٹی کی رپورٹ کا بھی انتظار ہے۔ جبکہ وزیراعظم نے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کو کراچی کے حالات پر مسلسل آگاہ رکھنے کی ہدایت بھی ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان طویل بیرونی دورے کیلئے 19 ستمبر کو روانہ ہوں گے۔ وزیراعظم پہلے سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ 2 روز کیلئے قیام کریں گے۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سعودی عرب

سے ہی امریکا کیلئے رواںہ ہوں گے جہاں وہ ناصرف امریکی صدر سے ملاقاتیں کریں گے، بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری نے کہاہے کہ ٹرمپ سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقاتوں میں کشمیر کے علاوہ افغانستان کے مسئلے پر بھی بات ہوگی کیونکہ امریکہ چاہتاہے کہ افغان امن کیلئے بات ہو۔دنیا نیوز کے پروگرام ”تھنک ٹینک“میں گفتگو کرتے ہوئے حسن عسکری نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ عالمی سطح پر ڈسکس ہونا شروع ہوگیا ہے ، بھارت کی پالیسی یہ تھی کہ کشمیر کی بات عالمی سطح پر ہونی ہی نہیں چاہئے ۔ یہ معاملہ مودی کی حرکت کی وجہ سے عالمی سطح پر چلا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس مسئلہ کے حل ہونے کا وقت آگیاہے ،یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ لائن آف کنٹرول کی طرف نہ جائیں، نجی گروپوں کی حوصلہ شکنی کرناہے کیونکہ اس طرح لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے پاکستان کیلئے پریشانی ہوگی ۔ان کاکہناتھاکہ ٹرمپ سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقاتوں میں کشمیر کے علاوہ افغانستان کے مسئلے پر بھی بات ہوگی کیونکہ

امریکہ چاہتاہے کہ افغان امن کیلئے بات ہو، یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی کہ اگر ٹرمپ اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر کاذکر کردیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں