63

آئی فون 11 کا حیران کن نقص سامنے آگیا

لندن(ویب ڈٰسک) ایپل اپنی مصنوعات کے ڈیزائن کے لیے مشہور ہے۔ ایپل کا نیا آئی فون 11 ایک مرتبہ پھر خوبصورتی اور جدت کا امتزاج ہے لیکن فون کے پیچھے تین سرکلر کیمروں کو دیکھ کر بعض لوگوں کو گھن آتی ہے۔ اِس کی وجہ ایک ذہنی کیفیت ہے جسے ٹرائپوفوبیا کہتے ہیں۔ٹرائپوفوبیا وہ خوف یا نفرت

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔ ہے جو جیومیٹرک نمونوں یا جھرمٹ کو دیکھنے سے پیدا ہو سکتی ہے خاص طور پر بہت سارے سوراخ اور بہت سے چھوٹے چھوٹے مستطیل۔منگل کو ایپل کی نئے مصنوعات کی پیش کش کی وجہ سے ٹرائپوفوبیا شہ سرخیوں میں آ گیا۔کنول کے پھول میں لگے ہوئے بیجوں سے بننے والی شکل سے پیدا ہونے والا خوف ٹرائپوفوبیا کی سب سے خاص مثال ہے۔ اِس کے علاوہ شہد کے چھتے یا کسی سمندری سفنج کی جیومیٹرک شکل کو دیکھ کر پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت بھی اِس کی مثال ہیں۔ یونیورسٹی آف ایسیکس کے دو محقیقن پروفیسر آرنلڈ ویلکنز اور ڈاکر جیف کول کو یقین ہے کہ ان شکلوں اور نمونوں کے سبب کچھ لوگوں میں نفرت کا احساس اُن کے دفاعی نظام کا حصہ ہو سکتا ہے۔چونکہ بہت سے جان لیوا جانور جیسے کچھ مکڑیاں، سانپ اور بچھوؤں کی خصوصیات ایک جیسی ہیں، نفرت سے مطابقت ایک ارتقائی عمل ہے جس کا انفرادی تحفظ کے ساتھ تعلق ہے۔اگرچہ اس کی طبعی طور پر تشخیص نہیں کی جا سکتی، اسے رپیٹیٹیو پیٹرن فوبیا بھی کہا جاتا ہے۔نئے آئی فون کے پچھلے حصے میں لگے ہوئے تین سرکلر کیمروں سے بننے والی شکل اِسی کی ایک مثال ہے۔ اس کیفیت سے دوچار لوگوں نے پچھلے ماڈلز کے ذریعے خطرہ محسوس نہیں کیا تھا۔ امریکی ریاست نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے سب سے پہلے سنہ 2009 میں فیس بک کے صفحے پر خود تشخیصی واقعات کی نشاندہی کی تھی،آئی فون ایٹ یا ایکس آر میں

صرف ایک ہی پیچھے والا کیمرا ہوتا ہے اور اس سے کوئی عجیب و غریب نمونہ نہیں بنتا ہے۔تاہم آئی فون 11 پرو اور اس کا میکس وریژن تین کیمروں کے ساتھ آتا ہے جو ٹرائپوفوبیا میں مبتلا افراد کے لیے پریشان کن شکل تشکیل دیتے ہیں۔کمپنی کے ڈیزائنرز اپنی فلیگ شپ مصنوعات میں مزید کیمرے شامل وقت واضح طور پر اس نایاب کمیاب ذہنی کیفیت کے بارے میں سوچ نہیں رہے تھے۔ درحقیقت آئی فون 11، آئی فون 11 پرو اور آئی فون 11 پرو میکس کے کیمروں کی لانچنگ میں سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ یہ بیک وقت ایک سے زیادہ ویڈیوز ریکارڈ کر سکتے ہیں۔پرو ماڈلز میں ٹیلی فوٹو وائڈ اور الٹرا وائڈ کیمرے شامل ہیں اور نائٹ موڈ میں ایک نئی خصوصیت بھی ہے یعنی لوگ کم روشنی میں بھی تصاویر بنا سکتے ہیں۔لیکن یہ ان لوگوں کے لیے ڈراؤنے خواب ہیں جنھیں سوراخوں کا فوبیا ہوتا ہے کیونکہ ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ قے یا چکر آنا جیسا محسوس کرتے ہیں یا ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لہذا کچھ لوگوں نے اسے نیا ماڈل نہ خریدنے کی ایک اچھی وجہ کے طور پر دیکھا ہے۔جبکہ دوسرے لوگوں نے سوشل نیٹ ورکس پر تبصرہ کیا ہے کہ جب وہ نئے آئی فون کی پشت کو دیکھتے ہیں تو وہ کیا دیکھتے ہیں۔ٹوئٹر استعمال کرنے والی ایک صارف نے جب آئی فون پرو کی تصاویر دیکھیں تو ان کا ثاثر تھا یہ سب کیمرے ہیں۔‘ چھوٹے سوراخوں کو دیکھنے کا ردِ عمل انتہائی شدید ہو سکتا ہے۔اس سے بھی زیادہ جب تصویر میں رنگین پیشکش کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ساتھ کئی آئی فون دکھائے جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف ایسیکس کے محقق ڈاکر جیف کول نے بی بی سی کو بتایا ’ہم سب (ٹرائپوفوبیا سے) زیادہ یا کم حد تک تکلیف میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے اس کے ظاہر کرنے کا طریقہ اس ڈگری پر منحصر ہے جو ہمارے پاس ہے۔ابھی ابھی سوشل میڈیا پر ایپل کی پیشکش کے بارے میں میمز یا خبروں سے بچنا آسان نہیں ہے۔ لفظ ٹرائپوفوبیا کا ٹوئٹر پر وسیع پیمانے پر تذکرہ کیا جاتا ہے اور اس کی تصاویر ہمیشہ ساتھ ہی رہتی ہیں جو اسے اشتعال دیتی ہیں۔امریکین ہارر سٹوری سیریز کی اداکارہ سارہ پال سن اور ماڈل کینڈل جینر ان لوگوں میں شامل ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ ٹرائپوفوبیا میں مبتلا ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں