106

امریکہ میں ریکارڈ 52 ہزار نئے کیسز، صدر ٹرمپ ماسک پہننے پر رضامند

امریکہ میں عالمی وبا ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف ریاستوں میں کورونا کے 52 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ملک میں ایک دن میں وائرس کے پھیلاؤ کا نیا ریکارڈ ہے۔
دوسری جانب ماسک نہ پہننے پر تنقید کا سامنا کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ عوامی جگہ پر ہوئے تو ماسک ضرور پہنیں گے اور ان کو ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ’ماسک کے حق میں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ماسک پہننا اچھا ہے۔‘
امریکہ میں اب تک کل متاثرہ افراد کی تعداد 26 لاکھ 82 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 706 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد ایک لاکھ 28 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ دنوں میں روزانہ کے نئے کیسز کی تعداد 40 ہزار کے لگ بھگ تھی جس میں اب اضافہ ہو رہا ہے۔ ہوسٹن، ٹیکساس، فیونکس اور اریزونا کے شہروں میں مریضوں کے ہسپتالوں میں داخلے کی شرح بڑھ گئی ہے۔
کورونا کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے کئی ریاستوں نے کاروبار اور ریستوران دوبارہ کھولنے کے فیصلے کو موخر کر دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ریاست کیلی فورنیا کے مرکزی شہر لاس اینجلس میں ریستوران میں بیٹھ کر کھانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ بارز میں سروس، سنیما اور میوزیم بھی کم از کم تین ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے۔
ریاست مشی گن میں گورنر نے بارز بند کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ اوریگن اور پنسلوینیا میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں ماسک پہننے کو اس وقت ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنایا جا رہا ہے اور کئی حلقے اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جن کو تاحال ماسک پہنے نہیں دیکھا گیا، کا کہنا ہے کہ ان کو ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وبا جلد ختم ہو جائے گی۔
ادھر برازیل میں کورونا سے ایک دن میں مزید ایک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور ملک میں کل اموات کی تعداد اب 60 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
برازیل وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے دنیا کا دوسرا ملک ہے۔ متاثرین اور ہلاکتوں میں امریکہ کے بعد برازیل دوسرے نمبر پر ہے۔
دوسری جانب کورونا کی وبا کو اپنے ملک سے ختم کرنے والے نیوزی لینڈ کے وزیر صحت ڈیوڈ کلارک نے عوامی دباؤ پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
واضح رہے کہ ڈیوڈ کلارک نے اپریل میں سخت لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کو کار میں 20 کلومیٹر دور ساحل پر سیر کرائی تھی۔ سخت عوامی ردعمل پر انہوں نے خود کو احمق قرار دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں