79

قربانی کے جانور کی آن لائن خریداری اور اس میں پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل

عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ اعلانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ اس سال کرونا وائرس کے خدشے کے سبب مویشی منڈیاں شہری آبادیوں میں لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی- اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے سے بچنے کے لیے ایسی منڈیاں میں جانے سے اجتناب برتیں گے- ایسی صورتحال میں جب کہ قربانی کی ادائیگی ایک اہم دینی فریضہ ہے اور اپنی جان بچانا بھی فرض اول ہے تو لوگ مویشیوں کی خریداری کے لیے آن لائن طریقہ کار کو ترجیح دے رہے ہیں- مگر یہ طریقہ کار چونکہ ماضی میں اتنا فعال نہ تھا تو اس وجہ سے اس طریقہ کار میں بہت سارے ایسے مسائل سامنے آنے کا خدشہ ہے جن کا وقت سے پہلے حل ہونا بہت ضروری ہے-

آن لائن جانور کی خریداری اور اس کا طریقہ کار
آن لائن جانور کی خریداری کے لیے مختلف ویب سائٹس یہ سہولت فراہم کر رہی ہیں اور اس کے لیے وہ جانور کے وزن کے ساتھ اس کی قیمتیں بتا رہے ہیں- اس کے علاوہ مختلف فیس بک گروپس اور واٹس ایپ گروپ بھی مختلف جگہوں پر موجود جانوروں کی تصاویر اور ان کی قیمتیں شئیر کر رہے ہیں- خریدار جانور کی خریداری کا فیصلہ ان تصاویر کو دیکھ کر کرتا ہے اور اس کے بعد جانور کی قیمت طے کر لی جاتی ہے اور مقررہ وقت پر یا تو خریدار مقررہ جگہ پر جا کر پیسے ادا کر کے جانور وصول کر لیتا ہے یا پھر جانور کو اس کو مقررہ وقت پر ہوم ڈلیور بھی کیا جاتا ہے اور ڈلیوری کے بعد پیسے وصول کر لیے جاتے ہیں- اس کے علاوہ کچھ ویب سائٹس یہ سہولت بھی فراہم کر رہی ہیں کہ آپ اپنے حصے کی رقم جمع کروا دیں اور عید کے دن آپ کے گھر پر گوشت پہنچا دیا جائے گا- یہ تمام طریقہ کار اس وقت لوگ اپنی آسانی کے حساب سے اپنا رہے ہیں-

آن لائن جانور کی خریداری میں مسائل
آن لائن جانور کی خریداری کا آغاز پاکستان میں 2006 سے ہو چکا تھا مگر یہ طریقہ کار اس وجہ سے اتنا کامیاب نہ تھا کہ لوگ سارے سال اپنے اس فریضے کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں اور اس کے بعد منڈی میں جا کر اپنی مرضی کے مویشی کی تلاش اس کی قیمت پر بحث اور اس کے بعد اس جانور کی رسی تھام کر اپنے محلے میں گھمانا یہ تمام ایسے ایڈونچر ہیں- جن کا انتظار بچے اور نوجوان سارا سال کرتے ہیں مگر آن لائن خریداری میں یہ تمام مزے موجود نہیں ہیں- اس وجہ سے لوگ اس سے اب تک تو درگزر ہی کرتے رہے- مگر اب جب کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور رش والی جگہ پر جانے سے بچنا لازمی ہے تو اس صورت میں آن لائن خریداری سب سے محفوظ طریقہ کار ہے- مگر اس میں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ کچھ اس طرح ہو سکتے ہیں-

1: تصویر اور حقیقت میں فرق
آن لائن خریداری کے لیے خریدار کو صرف اور صرف تصویر اور ویڈیو پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے- مگر بعض اوقات تصویر میں پسند آنے والی چیز حقیقیت میں بھی اتنی ہی پسند آئے اس کی گارنٹی دینا مشکل ہے اس صورت میں مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں-

2: ایک ہی جانور بیک وقت ایک سے زیادہ خریداروں کو پسند آسکتا ہے
آن لائن جانور کی خریداری کے لیے سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر شئير کی جاتی ہیں اور اگر بیک وقت ایک ہی جانور ایک سے زیادہ افراد کو پسند آجائ تو اس صورت میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ جس نے اس جانور کی خریداری کے لیے پہلے رابطہ کیا اس کو فوقیت دی جائے-

3: جانور کی عمر اور وزن کے حوالے سے غلط فہمی
قربانی کے لیے جانور کا مقررہ عمر تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے کم عمر جانور کی قربانی ممکن نہیں ہے- مگر تصویر سے اس حوالے سے پتہ کرنا ممکن نہیں ہے بعض اوقات فروخت کرنے والے نقلی تصاویر سے جانور کے دانت دکھا دیتے ہیں- مگر جب خریدار پیسے دیتا ہے تو اس کو اس فراڈ کا علم ہوتا ہے

ایسے ہی بہت سارے مسائل آنے والے وقت میں جیسے جیسے عید کے دن نزدیک آئيں گے سامنے آئیں گے- اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ خریدنے والے اور بیچنے والے وقت سے پہلے ان تمام مسائل کا سامنا کرنے کی تیاری کر لیں تاکہ کسی بدمزگی سے بچا جا سکے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں