51

ایل او سی: بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے 5 شہری زخمی، دفتر خارجہ کا احتجاج

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5 شہری زخمی ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ایل او سی پر نکیال سیکٹر میں رات گئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

بیان میں کہا گیا کہ زخمی ہونے والے شہریوں میں 2 بزرگ خواتین اور 2 لڑکے شامل ہیں جبکہ پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔

تحریر جاری ہے‎

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور آئے روز آزاد کشمیر میں ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے۔

گزشتہ روز بھی آئی ایس پی آر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ بھی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔

دفتر خارجہ کا بھارتی ناظم الامور سے احتجاج
پاکستان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5 شہریوں کے زخمی ہونے پر پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔

5 جولائی کو نکیال سیکٹر پر بھارتی قابض افواد کی بلااشتعال فارئرنگ کے نتیجے میں 10 سالہ جنید، 7 سالہ آریان، 70 سالہ جہاں بیگم، 50 سالہ زبیدہ بی بی اور 15 سالہ کامران شفیق شدید زخمی ہوئے، تمام زخمی ٹروتھی اور گھم بالا گاؤں کے رہائشی ہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر جدید ہتھیاروں اور بھاری گولہ باری سے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

رواں سال اب تک بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ایک ہزار 595 مرتبہ خلاف ورزی کی جاچکی ہے جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ شہری شہید اور 121 زخمی ہوئے۔

بیان میں نہتے شہریوں پر بھارتی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی فائرنگ 2003 کے سیز فائر معاہدے، بین الاقوامی انسانی حقوق اور اقدار کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدام سے کنٹرول لائن کے اطراف ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا ہے اور خطے میں امن و استحکام متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: بھارتی فوج کی جندروٹ سیکٹر پر فائرنگ سے 4 کشمیری زخمی

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کو بڑھا کر بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں