88

بحرین: غلط آپریشن سے مریض کی بینائی ضائع کرنے والے ڈاکٹر کو قید ہو گئی آنکھوں کے ڈاکٹر کو طبی غلطی کا مرتکب قرار پانے پر 2 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا

منامہ:مقامی عدالت نے ایک مقدمے کا فیصلہ سُناتے ہوئے ایک آپتھلمالوجسٹ (آنکھوں کے ڈاکٹر) کو دو ماہ کے لیے جیل بھیجا دیا گیا۔ ملزم ڈاکٹر کو ایک سنگین طبی غلطی کا مرتکب پایا گیا جس کے باعث ایک مریضہ اپنی آنکھوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے گوا بیٹھی۔ عدالت نے ملزم ڈاکٹر کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے اُسے دو ماہ کی قید کا حکم سُنایا۔
تاہم ڈاکٹر کو یہ آپشن دی گئی کہ اگر وہ سزا بچنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں 50بحرینی دینار بطور جرمانہ ادا کرنا ہو ں گے۔ مُدعی مریضہ نے بتایا کہ وہ دو سال قبل ملزم ڈاکٹر کے کلینک گئی تھی، جہاں ڈاکٹر نے اُسے چھوٹے سے آپریشن کا بتایا۔ چند روز بعد خاتون آپریشن کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ گئی۔ جب آپریشن کافی لمبا ہو گیا تو بیٹا فکر مند ہو گیا۔

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آپریشن روم سے باہر آیا اور بیٹے سے کہنے لگا کہ مریضہ کی آنکھ کے آپریشن کے دوران ایک پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ لہٰذا مریضہ کو کویت میں مقیم ایک ریٹینل تھراپی سپیشلسٹ کے پاس لے جانا پڑے گا۔ اس طرح بچہ اپنی والدہ کو لے کر فوری طور پر کویت روانہ ہوا، مگر اس دوران خاتون کی آنکھ سے خون بہہ رہا تھا۔ کویت میں موجود ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ بحرینی ڈاکٹر نے علاج کے دوران سنگین طبی غلطی کی ہے جس کے باعث مریضہ کی آنکھ کا ریٹینا بُری طرح سے متاثر ہوا ہے جس کے باعث بینائی مستقل طور پر چلی گئی ہے۔
بیٹے نے استغاثہ کو مزید بتایا کہ کویت میں اُس کی والدہ کے دو آپریشن ہوئے جن پر 6,100 بحرینی دینار (پانچ ہزار کویتی دینار) کا خرچہ آیا۔ ان سرجریوں سے خاتون کی صرف 20 فیصد بینائی واپس آئی ہے۔ جب بیٹے نے ملزم ڈاکٹر کے پاس جا کر اُسے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آپریشنز پر آنے والے خرچے کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹر نے اُسے دھکے دے کر دفتر سے باہر نکال دیا۔ بعد کی تحقیقات سے ثابت ہو گیا کہ اس تمام تر معاملے میں ڈاکٹر کی غفلت اور طبی غلطی شامل تھی۔ عدالت نے طبی شواہد مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کو سزا سُنا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں