129

یہ انسانیت کی آخری صدی ہے جلد یہ کام ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔ بی بی سی کی رپورٹ میں پوری دنیا کو خبردار کر دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک)انسانی نسل کو فی الحال ماحولیاتی تبدیلی، ایٹمی جنگ، وبائی امراض یا پھر زمین کے ساتھ شہابی پتھروں کے ٹکرانے جیسے خطرات لاحق ہیں۔ریڈیو براڈكاسٹر اور فلسفی ڈیوڈ ایڈمنڈس نے ان امور کے ماہرین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا رواں صدی کے آخر تک کرۂ ارض سے انسان

کا وجود مٹ تو نہیں جائے گا؟آکسفورڈ کے فیوچر آف ہيومنٹیز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اینڈرس سینڈبرگ کا کہنا ہے کہ ‘بنی نوع انسان کے سامنے معدوم ہونے کا ایسا خطرہ ہے جو پوری کہانی ہی ختم کر دے گا۔’20 ویں صدی تک ہمارا یہ خیال تھا کہ ہم بہت ہی محفوظ جگہ آباد ہیں لیکن اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔انسانیت کے ختم ہونے کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ گيا ہے۔ اس کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔سنہ 1980 کی دہائی تک ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آسمان سے برسنے والے شہابیے سے زمین پر کوئی بڑی تباہی آئے گی لیکن رواں دہائی میں سائنسدان باپ بیٹے لوئی اور والٹر ایواریز نے ایک تصور پیش کیا کہ شہابیوں کی وجہ سے زمین سے ڈائنوسار ختم ہو گئے۔میکسیکو کی خلیج کے یوکٹان میں ایک بڑے گڑھے کی دریافت کے بعد سائنسدانوں کے ایک بین الاقوامی پینل نے حال ہی میں اس خیال کی حمایت کی ہے۔ بہر حال شہابیوں کے ٹکرانے کا امکان ابھی نہیں ہے لیکن ہم خود ہی مختلف اقسام کے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے ہم بہت حد تک آشنا ہیں لیکن لندن یونیورسٹی کی ریسرچر کیرن کلہیمین آبادی میں اضافے پر تحقیق کر رہی ہیں۔کم ہوتے قدرتی وسائل کی خبروں کے ساتھ اس کا ذکر ہم اس لیے نہیں کرتے کیونکہ ہم اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتے۔ کیرن کے مطابق جن چیزوں سے انسانی آبادی اجتماعی قبر میں دفن ہو سکتی ہے ان میں موسمیاتی تبدیلیاور آبادی میں اضافہ کا مشترکہ مسئلہ بھی شامل ہے۔ان کے مطابق آبادی میں اضافے کا آب و ہوا کی تبدیلی پر خاض اثر ہے کیونکہ وسائل ختم ہو رہے ہیں اور ان کا استحصال بڑھ رہا ہے اور یہ آب و ہوا کی تبدیلی کو مزید خوفناک صورت فراہم کرتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر آبادی میں اضافہ رک بھی جائے اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کو روکنا ناممکنات میں شامل ہے۔کچھ محققین کا کہنا ہے کہ اس صدی کے وسط تک کاروباری ماہی گیری کی صنعت کے لیے سمندر میں وافر مچھلیاں نہیں ہوں گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دکانوں میں خریدنے کے لیے کوئی مچھلی، چپس یا فش کری نہیں ہو گی۔کیڑے مکوڑے بھی تیزی سے ناپید ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی چڑیوں کی کئی اقسام بھی ختم ہو رہی ہیں کیونکہ ان کی خوارک وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو اب نہیں رہے۔ کرین کا کہنا ہے کہ ہم حیاتیاتی تنوع کے ختم ہونے کے نتائج سے لاعلم ہیں لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے خاتمے سے ہماری زندگیوں پر برے اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔کیمبرج کے سینٹر فار ایگزسٹنشیئل رسک سے منسلک للتھا سندرم حیاتیاتی خطرات کا مطالعہ کر رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ سنہ 1918 میں ہسپانوی بخار کی وبا کے دوران ایک اندازے کے مطابق تقریباً آدھی آبادی اس کی زد میں آ گئی تھی اور اس سے پانچ سے دس کروڑ افراد کی موت ہوئی تھی۔وبائی امراض اس وقت پھیلتے ہیں جب بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں